PDA

View Full Version : And He is Ever Most Merciful to the believers.



iqbalkuwait
02-25-2010, 03:25 PM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Thursday, 25 February 2010



Quran. 33 Aya. 43



هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۚ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا [٣٣:٤٣]



وہی ہے جو تم پر درود بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی، تاکہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لے جائے اور وہ مومنوں پر بڑی مہربانی فرمانے والا ہے،



He it is Who sends Salt (His blessings) on you, and His angels too (askAllah to bless and forgive you), that He may bring you out from darkness (of disbelief and polytheism) into light (of Belief and Islmic Monotheism). And He is Ever Most Merciful to the believers.



TAFSEER


ف ٦ یعنی اللہ کو بکثرت یاد کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ اپنی رحمت تم پر نازل کرتا ہے جو فرشتوں کے توسط سے آتی ہے۔ یہ ہی رحمت و برکت ہے جو تمہارا ہاتھ پکڑ کر جہالت و ضلالت کی اندھیریوں سے علم و تقویٰ کے اجالے میں لاتی ہے۔ اگر اللہ کی خاص مہربانی ایمان والوں پر نہ ہو تو دولت ایمان کہاں سے ملے اور کیونکر محفوظ رہے۔ اسی کی مہربانی سے مومنین رشد و ہدایت اور ایمان و احسان کی راہوں میں ترقی کرتے ہیں۔ یہ تو دنیا میں ان کا حال ہوا، آخرت کا اعزاو اکرام آگے مذکور ہے۔


HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 15 حدیث مرفوع مکررات 11 متفق علیہ



محمد بن مثنی، عبدالوہاب ثقفی، ایوب، ابوقلابہ، انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ تین باتیں جس کسی میں ہونگیں، وہ ایمان کی مٹھاس (مزہ) پائے گا، اللہ اور اس کے رسول اس کے نزدیک تمام ماسوا سے زیادہ محبوب ہوں اور جس کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ ہی کے لئے کرے اور کفر میں واپس جانے کو ایسا برا سمجھے جیسے آگ میں ڈالے جانے کو۔



(ف67) آدم علیہ السلام نے زمین پر آنے کے بعد تین سو برس تک حیاء سے آسمان کی طرف سر نہ اٹھایا اگرچہ حضرت داؤد علیہ السلام کثیر البکاء تھے آپ کے آنسو تمام زمین والوں کے آنسوؤں سے زیادہ ہیں مگر حضرت آدم علیہ السلام اس قدر روئے کہ آپ کے آنسو حضرت داؤد علیہ السلام اور تمام اہل زمین کے آنسوؤں کے مجموعہ سے بڑھ گئے۔ (خازن) طبرانی و حاکم و ابو نعیم و بیہقی نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت کی کہ جب حضرت آدم علیہ السلام پر عتاب ہوا تو آپ فکر توبہ میں حیران تھے اس پریشانی کے عالم میں یاد آیا کہ وقت پیدائش میں نے سر اٹھا کر دیکھا تھا کہ عرش پر لکھا ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں سمجھا تھا کہ بارگاہِ الہٰی میں وہ رُتبہ کسی کو میسر نہیں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام اپنے نام اقدس کے ساتھ عرش پر مکتوب فرمایا لہذا آپ نے اپنی دعا میں '' رَبَّنَا ظَلَمْنَا ''الآیہ ' کے ساتھ یہ عرض کیا '' اَسْئَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ اَنْ تَغْفِرَلِیْ '' ابن منذر کی روایت میں یہ کلمے ہیں۔



'' اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْلَکَ بِجَاہِ محمَّدٍ عَبْدِکَ وَکَرَامَتِہٖ عَلَیْکَ اَنْ تَغفِرَلِیْ خَطِیْئَتِیْ '' یعنی یارب میں تجھ سے تیرے بندہ خاص محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جاہ و مرتبت کے طفیل میں اور اس کرامت کے صدقہ میں جو انہیں تیرے دربار میں حاصل ہے مغفرت چاہتا ہوں یہ دعا کرنی تھی کہ حق تعالیٰ نے ان کی مغفرت فرمائی مسئلہ اس روایت سے ثابت ہے کہ مقبولان بارگاہ کے وسیلہ سے دعا بحق فلاں اور بجاہ فلاں کہہ کر مانگنا جائز اور حضرت آدم علیہ السلام کی سنت ہے مسئلہ : اللہ تعالیٰ پر کسی کا حق واجب نہیں ہوتا لیکن وہ اپنے مقبولوں کو اپنے فضل و کرم سے حق دیتا ہے اسی تفضلی حق کے وسیلہ سے دعا کی جاتی ہے صحیح احادیث سے یہ حق ثابت ہے جیسے وارد ہوا '' مَنْ اٰمَنَ بِ اللہ ِ وَرَسُوْلِہٖ وَاَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَصَامَ رَمَضَانَ کَانَ حَقاً عَلیٰ اللہ ِ اَنْ یُدْخِلَ الْجَنَّۃَ ''



حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ دسویں محرم کو قبول ہوئی جنت سے اخراج کے وقت اور نعمتوں کے ساتھ عربی زبان بھی آپ سے سلب کرلی گئی تھی بجائے اس کے زبان مبارک پر سریانی جاری کردی گئی تھی قبول توبہ کے بعد پھر زبان عربی عطا ہوئی (فتح العزیز) مسئلہ : توبہ کی اصل رجوع الی اللہ ہے اس کے تین رکن ہیں ایک اعتراف جرم دوسرے ندامت تیسرے عزم ترک اگر گناہ قابل تلافی ہو تو اس کی تلافی بھی لازم ہے مثلا تارک صلوۃ کی توبہ کے لئے پچھلی نمازوں کی قضا پڑھنا بھی ضروری ہے توبہ کے بعد حضرت جبرئیل نے زمین کے تمام جانوروں میں حضرت آدم علیہ السلام کی خلافت کا اعلان کیا اور سب پر ان کی فرماں برداری لازم ہونے کا حکم سنایا سب نے قبول طاعت کا اظہار کیا ۔(فتح العزیز)

Volume 1, Book 2, Number 44:
Narrated Talha bin 'Ubaidullah:
A man from Najd with unkempt hair came to Allah's Apostle and we heard his loud voice but
could not understand what he was saying, till he came near and then we came to know that he
was asking about Islam. Allah's Apostle said, "You have to offer prayers perfectly five times
in a day and night (24 hours)." The man asked, "Is there any more (praying)?" Allah's
Apostle replied, "No, but if you want to offer the Nawafil prayers (you can)." Allah's Apostle
further said to him: "You have to observe fasts during the month of Ramad, an." The man
asked, "Is there any more fasting?" Allah's Apostle replied, "No, but if you want to observe
the Nawafil fasts (you can.)" Then Allah's Apostle further said to him, "You have to pay the
Zakat (obligatory charity)." The man asked, "Is there any thing other than the Zakat for me to
pay?" Allah's Apostle replied, "No, unless you want to give alms of your own." And then that
man retreated saying, "By Allah! I will neither do less nor more than this." Allah's Apostle


said, "If what he said is true, then he will be successful (i.e. he will be granted Paradise)."



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد




اس عاجز بندے کو دعاؤں ميں ياد رکھيں

_knownothing_
03-05-2010, 05:02 PM
jazakAllah brother

MAY Allah subhanwataala help us to stand firm on ISLAM
and work for it