بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأَىٰ كَوْكَبًا ۖ قَالَ هَٰذَا رَبِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ [٦:٧٦]
فَلَمَّا رَأَى الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هَٰذَا رَبِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَمْ يَهْدِنِي رَبِّي لَأَكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّينَ [٦:٧٧]
پھر جب ان پر رات نے اندھیرا کر دیا تو انہوں نے (ایک) ستارہ دیکھا (تو) کہا: (کیا تمہارے خیال میں) یہ میرا رب ہے؟ پھر جب وہ ڈوب گیا تو (اپنی قوم کو سنا کر) کہنے لگے: میں ڈوب جانے والوں کو پسند نہیں کرتا،
پھر جب چاند کو چمکتے دیکھا (تو) کہا: (کیا تمہارے خیال میں) یہ میرا رب ہے؟ پھرجب وہ (بھی) غائب ہوگیا تو (اپنی قوم کو سنا کر) کہنے لگے: اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ فرماتا تو میں بھی ضرور (تمہاری طرح) گمراہوں کی قوم میں سے ہو جاتا،
So, when the night enveloped him, he saw a star. He said, :This is my Lord. But, when it vanished, he said, :I do not like those who vanish.
Later, when he saw the moon rising, he said, :This is my Lord. But, when it vanished, he said, :Had my Lord not guided me, I would have been among those gone astray.
ف ٨ کہ انھیں اپنا رب بنا لوں۔ کیا ایک مجبور قیدی اور بیگاری کو شہنشاہی کے تخت پر بٹھلانا کوئی پسند کر سکتا ہے باقی ابراہیم کا ھٰذا ربی کہنا یا تو استفہام انکاری کے لہجے میں ہے یعنی کیا یہ ہے راب میرا اور یا بطریق تہکم و تبکیت ہے۔ یعنی یہ ہے رب میرا تمہارے عقیدہ اور گمان کے موافق جیسے موسیٰ نے فرمایا وَانْظُرْاِلٰی اِلٰھِکَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْہٖ عَاکِفًااِیْ فِیْ زَعْمِکَ اس کے سوا مفسرین کے اور اقوال بھی ہیں۔ مگر ہمارے خیال میں یہ ہی راجح ہے وﷲ اعلم۔
[٨٢] انبیاء کے والدین کو شرک سے بری ثابت کرنے کا نظریہ:۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ سیدنا ابراہیم کے باپ کا اصلی نام تارح تھا اور آزر ان کا لقب تھا۔ پھر وہ لقب سے زیادہ مشہور ہو گئے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ ان کا اصل نام آزر تھا اور تارح لقب تھا۔ یہ باتیں تو ایسی ہیں جن میں کسی کے اختلاف کرنے کی ضرورت نہیں مگر جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابراہیم کے باپ کا نام تارح تھا اور آزر آپ کے چچا کا نام تھا اور اس کی وجہ یہ بتلاتے ہیں کہ پیغمبر کا باپ مشرک نہیں ہو سکتا۔ یہ بات ایک تو قرآن کے ظاہر الفاظ کے خلاف ہے دوسرے اس کی جو وجہ بیان کی گئی ہے وہ بناء فاسد علی الفاسد پر مبنی ہے کیونکہ پیغمبروں کے مبعوث ہونے کا وقت ہی وہ ہوتا ہے جب دنیا میں کفر و شرک اور فتنہ و فساد عام پھیل جاتا ہے اور اس کلیہ سے مستثنیٰ صرف وہ انبیاء ہیں جن کی قرآن یا حدیث میں صراحت آ گئی ہے۔ مثلاً سیدنا ابراہیم کے بیٹے اسماعیل اور اسحاق اور ان کے بیٹے اور پوتے یعنی یعقوب اور یوسف علیہ السلام سب نبی تھے یا سلیمان علیہ السلام کے باپ داؤد نبی تھے۔ ان انبیاء کے علاوہ دوسرے نبیوں کے باپ یا ماں باپ دونوں کو غیر مشرک ثابت کرنا ایسا تکلف ہے جسے تکلف کرنے کے باوجود بھی ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1430 حدیث مرفوع مکررات 25 متفق علیہ
آدم، شعبہ، سیار ابوالحکم، ابوحازم، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے اللہ کے لئے حج کیا اور اس نے نہ فحش بات کی اور نہ گناہ کا مرتکب ہوا تو اس دن کی طرح (گناہ سے پاک وصاف) ہوگا جس دن سے اس کی ماں نے جنا تھا۔
Volume 1, Book 2, Number 41:
Once the Prophet came while a woman was sitting with me. He said, "Who is she?" I replied,
"She is so and so," and told him about her (excessive) praying. He said disapprovingly, "Do
(good) deeds which is within your capacity (without being overtaxed) as Allah does not get
tired (of giving rewards) but (surely) you will get tired and the best deed (act of Worship) in
the sight of Allah is that which is done regularly."
اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد
اس عاجز بندے کو دعاؤں ميں ياد رکھيں