عزت اور وقار کا پیمانہ



ابو العباس سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک مالدار آدمی کا گزر ہوا۔ آپ نے اپنی خدمت میں بیٹھے ہوے ایک صحابی سے فرمایا:

“اس آدمی کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟“


صحابی نے عرض کیا اس آدمی کا شمار بڑے اور با عزت لوگوں میں ہے، اللہ کی قسم یہ اس بات کا مستحق ہے کے شادی کا پیغام دے تو اسکی شادی ہو جائے۔ اور کسی کی سفارش کرے تو قبول ہو جائے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سن کر خاموش رہے۔ پھر ایک دوسرے آدمی کا گزر ہوا تو آپ نے مذکورہ صحابی سے فرمایا:

"اس شخص کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟“

صحابی نے عرض کیا :
اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا شمار مسلمانوں کے فقراء میں سے ہے، یہ اس بات کا مستحق ہے کہ اگر کسی کے پاس پیغام نکاح دے تو اسکی شادی نہ ہو، اگر کسی کی سفارش کرے تو قبول نہ کی جائے اور اگر کوئی بات کہے تو کان نا دھرے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

"اللہ کے نزدیک یہ محتاج شخص مالدار شخص سے بہتر ہے“
(حوالہ : بخاری کتاب الرقاق، باب فضل الفقر-٦٤٤٧)

آخر وہ میزان کیا ہے؟ وہ کونسی صلاحیتیں ہیں جو اسے اوج ثریا تک پہنچاتی ہیں یا تحت الثری میں گرا کر زلیل و خوار کرتی ہیں؟ درحقیقت وہ میزان اسلام ہے۔اللہ تعالی نے اس میزان اور آلے کو تقوی کا نام دیا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے:

“ جان لو اللہ کے نزدیک تم میں سب سے با عزت وہ یے جو سب سے زیادہ متقی (ڈرنےوالا) ہے۔“
(الحجرات١٣)

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ کے صاحبزادے مصعب بن سعد کہتے ہیں کے حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ گمان تھا کہ غریب لوگوں پر انہیں کچھ اہمیت حاصل ہے اور وہ ان سے بلند درجہ ہیں، جب اس بات کی خبر رسول اکرم کو ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

“ تم لوگ صرف اپنے کمزور اور معذور لوگوں کی دعاؤں کے نتیجے میں اللہ کی طرف سے مدد پہنچائے جاتے ہو۔ اور ان ہی کی دعاؤں سے رزق دیے جاتے ہو۔“

(بخاری کتاب الجہاد، ٢٨٩٦)
نبی کریم نے فقراء و محتاجین کی شان میں فرمایا:

“ مجھے کمزور لوگوں میں تلاش کیا کرو، کیونکہ تم لوگ اپنے کمزوروں کی بدولت رزق اور مدد دیے جاتے ہو“
(صحیح ابو داؤد ، کتاب الجہاد- ٢٥٩٤ : نسائی ٣١٨١)

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ دعا صحیح سند سے ثابت ہے:

اے اللہ مجھے مسکین بنا کر زندہ رکھ اور مسکینی میں موت دے اور قیامت کے روز مسکینوں کے زمرے میں اٹھا“

(اسے بہقی و طبرانی نے روایت کیا ہے)

جزاک اللہ خیر