بیان تولد حضرت عیسی علیہ اسلام۔
روایت میں آتا ہے کے جب حضرت مریم علیہا اسلام کی عمر چودہ برس ہوئی تو غسل کے واسطے گھر سے نکل کر ایک چشمہ
جسے عین السلوی کہتے ہیں میں گیئں اور ان کی بہن اشیاغ زکریا علیہ اسلام کی بی بی تھیں ان کے گھر گیئں ۔ جب غسل سے فراغت کی تو ایک جوان خوبصورت اجنبی اپنے پیچھے کھڑا ھوا دیکھا۔ یہ درحقیقت حضرت جبریئل علیہ السلام تھے۔مریم علیہا السلام یہ دیکھ کر ڈریں اور کہنے لگیں۔
ترجمہ: تحقیق میں پناہ پکڑتی ہوں رحمن کی تجھ سے اگر ہے تو پرھیزگار
اور بعض نے روایت کی ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص فاسق و فاجر تھا اور نام اسکا مشہور و معروف یوسف تھا۔ اور وہ سنار کا کام کرتا تھا حضرت مریم علیہا السلام نے دریافت کیا شاید یہ وہی شخص ہے اس لیے ڈریں حالا نکہ وہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ حضرت مریم علیہا السلام سے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کیا۔
ترجمہ:“ کہا حضرت جبرئیل نے کہ میں تو اللہ تعالی کی طرف سے بھیجا ہوا ہوں اور دے جاوں گا تجھ کو ایک لڑکا ستھرا پاک“
پھر حضرت مریم علیہا السلام بولیں کہاں سے ہو گا مجھکو لڑکا کہ چھوا تک بھی نہیں مجھکو کسی آدمی نے اور نہ میں کبھی تھی بدکار۔ پھر حضرت جبرائیل نے کہا،
ترجمہ:“ کہا حضرت جبرائیل نے اسی طرح فرمایا تیرے رب نے کہ وہ مجھ پر آسان ہے اور ہم اسکو کیا چاہیں گے لوگوں کے لیے نشانی کہ بن باپ کے لڑکا پیدا ہوگا اللہ تعالی کی قدرت کاملہ سےاور اللہ تعالی کی طرف سے یہ کام قطعی ٹھہر چکا ہے۔"
روایت میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی چھینک جبرائیل علیہ السلام نے خدا کے حکم سے مریم کے بیان میں ڈال دی۔
اور ایک روایت میں یوں بھی آیا ہے کہ مریم علیہا السلام کے پیٹ میں جبرائیل علیہ السلام نے روح پھونکی تھی۔ اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جب ہوا یا چھینک مریم علیہا السلام کے پیٹ میں پھونکی اور وہ ان کے رحم تک پہنچی تھی تو آواز آئی کہ خدا واحد و مطلق ہے اور میں اسکا بندہ ہوں۔ اسکے بعد حضرت مریم علیہا السلام مسجد اقصی میں جا کر عبادت میں مشغول ہو گئیں اور اس حقیقت کو انھوں نے ظاھر نہ کیا اور برابر عبادت الہی کرتی رہتی تھیں اور رات و دن روتی رہتی تھیں اور زبان حال سے کہتی رہتی تھیں یا رب جو حادثہ مجھ پر ہوا ہے ایسا کسی پر نہ ہو کیونکہ میں بے گناہ لوگوں میں رسوا ہوئی ہوں۔ اور میرے ماں باپ بھی میرے واسطے خلق میں رسوا ہوے ہیں۔ پس چند روز بعد یہ راز بنی اسرائیل میں ظاھر ہوا۔ یہ بات سنتے ہی یہودی حضرت مریم علیہا السلام کو تہمت دینے لگے اور نصیحت و ملامت کرنے لگے۔ کہ اے مریم یہ حمل تو کہاں سے لائی ہے؟ کیا تو نے بد کام کیا ھے؟ حضرت مریم اسکا کچھ جواب نہ دیتی تھیں۔ یہ سن کر وہ خامہوش ہو رہتی تھیں۔
جب حمل نو ماہ کا ہوا اور ولادت کا وقت قریب آیا تو بسبب الہام الہی بیت المقدس سے نکل کر ایک میدان کی طرف چلی گئیں۔ وہاں پر ایک درخت خشک خرمہ کا تھا اسی کے نیچے جا بیٹھیں۔ چنانچہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا
ترجمہ: “پس لے آیا اسکو جننے کا درد کھجور کی جڑ میں۔ مریم بولی کسی طرح میں مر چکتی اس سے پہلے اور ہو جاتی میں بھولی بسری خلق کے دل سے تو یہ حال مجھ پہ نہ گزرتا۔"
اور ایک روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے جو شخص حضرت مریم علیہا السلام کے حمل سے واقف ہوا وہ یوسف سنار تھا اور حضرت مریم علیہا السلام کا خلیرا بھائی تھا۔ اس نے مریم علیہا السلام سے کہا اے مریم تیری پارسائی اور زہد میں مجھکو شبہ ہے اور یہ حمل تو کہاں سے لائی ہے؟ تب مریم صادقہ نے اس سے ساری حقیقت بیان کی۔ اور جب وقت ولادت حضرت عیسی علیہ السلام کا قریب آیا تو حسب الہام الہی مریم نے یوسف مزکور کو لے کر بیت المقدس سے نکل کر وہاں سے تقریبا چھ کوس بیت اللحم ایک کریہ ہے وہاں پہنچ کر درد زہ سے بیقرار ہو گئیں تب وہ ایک درخت کھجور کی جڑ میں پشت لگا کر بیٹھ گئیں وہیں حضرت عیسی علیہ السلام پیدا ہوے اور درخت خرما فورا"خدا کے حکم سے ترو تازہ ہو کر اس میں کھجوریں لگیںاور اسکے نیچے ایک چشمہ جاری ہوا، اتنے میں فرشتوں اور حوروں نے جنت سے آ کر انکی رفع حاجت کی۔ آب حوض کوثر سے لا کر سر و تن حضرت عیسی علیہ السلام کا دھلایا۔ اور ایک پیراہن بہشت کا پہنا کر انکی گود میں دیا۔ یہ واقعہ جامع التواریخ سے نقل کیا گیا ہے۔
بحوالہ قصص الانبیاء علیہ السلام۔ مصنف قاصر محمد طاہر۔